کراکس، واشنگٹن، ٹوکیو، بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)
وینزویلا کا دارالحکومت کراکس اور اس کے مضافاتی علاقے چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو انتہائی طاقتور اور ہولناک زلزلوں سے لرز اٹھے ہیں۔ ان قیامت خیز جھٹکوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 167 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 1 ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے دارالحکومت کے مضافات اور وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔
چند سیکنڈز کی تباہی اور گرتی ہوئی عمارتیں
عینی شاہدین کے مطابق یہ قدرتی آفت اس قدر اچانک اور شدید تھی کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ ایک ہی منٹ کے اندر یکے بعد دیگرے آنے والے ان دو شدید ترین جھٹکوں نے بلند و بالا رہائشی بلاکس اور تجارتی مراکز کو تاش کے پتوں کی طرح مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ متعدد کثیر المنزلہ رہائشی اور کمرشل عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جن کے ملبے تلے اس وقت بھی سیکڑوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مٹی اور کنکریٹ کے ان ڈھیروں سے اٹھنے والے گرد و غبار نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے امدادی کارروائیوں کے آغاز میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک گیر ایمرجنسی کا نفاذ اور ہنگامی امدادی کام

حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے وینزویلا کی حکومت نے ملک بھر میں فوری طور پر سٹیٹ آف ایمرجنسی (ہنگامی حالت) نافذ کر دی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں، پاک فوج کے دستے اور مقامی رضا کار متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور ملبے تلے دبے زندہ افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے تمام طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے، تاہم زخمیوں کی غیر معمولی تعداد کے باعث ادویات اور خون کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق درجنوں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور یکجہتی
اس ہولناک سانحے پر عالمی برادری کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن، ٹوکیو اور بیجنگ سمیت دنیا کے بڑے دارالحکومتوں سے تعزیتی پیغامات بھیجے گئے ہیں اور متاثرین کے لیے ہر ممکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ زلزلے کے یہ جھٹکے اس قدر طاقتور تھے کہ ان کی لرزش پڑوسی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا تک محسوس کی گئی، جہاں لوگ خوف زدہ ہو کر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
مستقبل کے چیلنجز
وینزویلا اس وقت نہ صرف ملبے تلے پھنسے شہریوں کو نکالنے کی جدوجہد کر رہا ہے بلکہ مواصلاتی نظام کی تباہی، بجلی کی معطلی اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے سنگین چیلنجز سے بھی نبردآزما ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امدادی ٹیمیں اور بھاری مشینری متاثرہ مقامات پر نہ پہنچائی گئی، تو ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جائیں گے۔ حکومت نے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
No comments:
Post a Comment